ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / آسارام کیس: مرکز کا عدلیہ میں جواب : گواہوں کے تحفظ کے لیے جلد قانون پاس کرے گی حکومت

آسارام کیس: مرکز کا عدلیہ میں جواب : گواہوں کے تحفظ کے لیے جلد قانون پاس کرے گی حکومت

Mon, 19 Nov 2018 21:50:02    S.O. News Service

نئی دہلی:19/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آسارام معاملے میں اہم گواہ مہندر چاولہ کی درخواست پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے بتایا کہ انہوں نے ڈرافٹ ’’گواہ پالیسی‘‘ تیار کی ہے اور کہا کہ حکومت جلد ہی گواہوں کے تحفظ کے لئے قانون پاس کرنے والی ہے۔ چاولہ نے عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا تھا کہ آسا رام آبروریزی کیس کے 10 گواہوں پر حملے کی سی بی آئی جانچ کی جائے۔ ساتھ ہی گواہوں کی تحفظ کے لئے پالیسی بنانے کی بھی مانگ کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس بابت پانچ ریاستوں کو جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔سپریم کورٹ نے منگل کو مرکزی حکومت سے کہا کہ جب تک قانون پاس نہیں ہو جاتا، اس وقت تک تمام ریاستی حکومتیں گواہوں کے تحفظ کو لے کر ’’گواہ پالیسی‘‘ کا اطلاق کریں۔ کورٹ نے کہا کہ ہم تمام ریاستوں سے ’’گواہ پالیسی‘‘ لاگو کرنے کے لئے کہیں گے۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو کہا تھا کہ گواہوں کے تحفظ کو لے کر اگست تک منصوبہ بنائے۔ کورٹ نے کہا تھا کہ فوجداری مقدمات میں ان گواہوں کے تحفظ کو منصوبہ بنائیں ، جن ملزمان سے جان کا خطرہ ہے یا ہو سکتا ہے۔ وہیں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ پہلے 22 مارچ کو گواہوں کے تحفظ کو لے کر خط لکھا تھا۔ جس کے بعد کچھ ریاستی حکومتوں نے جواب داخل کیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے دوبارہ ریاستی حکومتوں کو 11 اپریل کو یاد دہانی بھیجا۔واضح ہوکہ پچھلی سماعت میں ہائی پروفائل مقدمات میں گواہوں کے تحفظ کو لے کر سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں سے پوچھا تھا کہ گواہوں کے تحفظ کے لئے کیا منصوبہ بنایا گیاہے۔ 


Share: